بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کی پرورش کا حق

سوال

کیا طلاق کے لیے  یہ شرط لگانا کہ بچہ دو گی تو طلاق دوں گا، جب کہ بچہ دو سال کا ہے،  کیا صحیح ہے؟ براہِ کرم دلائل کے  ساتھ  جواب  عنایت فرما دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق  کے لیے بچہ دینے کی شرط لگانا جائز نہیں،  بلکہ طلاق سے پہلے اور  بعد میں اس چھوٹے بچے  کی حضانت (پرورش)  کا حق  ماں کو  حاصل ہے، ہاں سات سال کے بعد بچے کی تربیت کی عمر ہے، اور بچے کی تربیت والد کے ذمے ہے،لہذا بچے  کی عمر سات سال  ہونے کے بعد  والد اسے لے سکتا ہے۔

"و أما بیان من له الحضانة فالحضانة تکون للنساء في وقت و تکون للرجال في وقت، و الأصل فیها النساء لأنهن أشفق و أرفق و أهدی إلی تربیة الصغار، ثم تصرف إلی الرجال لأنهم علی الحمایة و الصیانة و إقامة مصالح الصغار أقدر."

(بدائع الصنائع ۳: ۴۵۶)

"أحق الناس بحضانة الصغیر حال قیام النکاح، أو بعد الفرقة الأم … وإن لم یکن أم تستحق الحضانة بأن کانت غیر أهل للحضانة، أو متزوجة بغیر محرم أو ماتت، فأم الأم أولیٰ. فإن لم یکن للأم أم، فأم الأب أولیٰ ممن سواہا، وإن علت."

(فتاوی عالمگیری ۱: ۵۴۱)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201397
تاریخ12-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں