بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعت کی ایک صورت کا حکم

سوال

ایک بچی نے چچیری نا نی کا دودھ پیا، تو اس بچی کے والد کے لیے  چچیری نانی کی بیٹی سے شادی کرنا کیسا ہے ؟یعنی ایک بچی ہے، جس کا نام رقیہ ہے، اس نے فاطمہ نام کی عورت کا دودھ پیا ، اور فاطمہ کی ایک بیٹی ہے،جس کا نام رشدہ ہے ، اس بچی کے والد کا رشدہ نامی لڑکی سے شادی کرنا کیسا ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں رقیہ کے والد کا فاطمہ کی بیٹی رشدہ سے شادی کرنا صحیح ہے ،اس لیے  کہ رقیہ کے فاطمہ کے دودھ پینے سے رقیہ کی فاطمہ اور فاطمہ کے شوہر اور دیگر بچوں وغیرہ سے حرمتِ  رضاعت ثابت ہوئی ہے،رقیہ کے والد کی فاطمہ یا اس کے اولاد سے حرمتِ  رضاعت ثابت نہیں ہوئی ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) ....(أمومية المرضعة للرضيع، و) يثبت (أبوة زوج مرضعة) إذا كان (لبنها منه) (له) وإلا لا كما سيجي(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب).

(رد المحتار3/ 212ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201373
تاریخ11-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں