بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں آیتِ سجدہ پڑھنے سے سجدے کے واجب ہونے کا حکم

سوال

دل ہی دل میں آیتِ سجدہ پڑھنے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

دل میں آیتِ سجدہ پڑھنے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ سجدۂ تلاوت اس شخص پر واجب ہوتا ہے جو زبان سے آواز کے ساتھ آیتِ سجدہ پڑھے، چاہے آواز اتنی کم ہو جسے پڑھنے والا خود سن سکے یا کوئی دوسرا اس کے منہ کے قریب کان کرکے تلاوت کی آواز سن سکے۔ حتیٰ کہ اگر کسی نے صرف ہونٹ ہلائے اور اسے خود بھی آیتِ سجدہ کی تلاوت کی آواز نہیں آئی تو اس پر بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:132، ط: دار الفكر):

’’رجل قرأ آية السجدة لايلزمه السجدة بتحريك الشفتين وإنما تجب إذا صحح الحروف وحصل به صوت سمع هو أو غيره إذا قرب أذنه إلى فمه، كذا في فتاوى قاضي خان.‘‘

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201348
تاریخ11-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں