بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی اور کتے کے کھال کی بنی ہوئی اشیاء کے استعمال کا حکم

سوال

بلی اور کتے کے کھال کی بنی ہوئی اشیاء کے استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

احناف کے ہاں خنزیر کے علاوہ کسی بھی جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے؛  اس لیے کہ اس میں موجود تمام تری اور ناپاک اجزاء دباغت کے عمل سے  ختم ہو جاتے ہیں؛ لہذابلی اور کتے  کی دباغت دی ہوئی کھال کی بنی ہوئی اشیاء کا استعمال درست ہے ۔

ہدایہ میں ہے:

"وکل إهاب دبغ فقد طهر وجازت الصلاة فیه". (الهدایة: ۱/۴۰)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201327
تاریخ11-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں