بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جیب میں خون کے سیمپل کی بوتل کے ساتھ نماز پڑھنا

سوال

اگر جیب میں خون کے سیمپل کی بوتل ہو یا پیشاب کے سیمپل کی بوتل ہو جو باہر سے ناپاک نہ ہو تو نماز پڑھ  سکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی جیب میں خون، پیشاب یا اس جیسی کسی ناپاک چیز  کے سیمپل کی  بوتل ہو اور اس بوتل میں خون یا پیشاب وغیرہ موجود ہو تو ایسی بوتل کے جیب میں ہوتے ہوئے نماز درست نہیں ہوگی، ہاں! اگر بوتل خالی ہو اور اُس میں خون یا پیشاب ایک درہم کی مقدار سے زیادہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز ہو جائے گی، تاہم اس صورت میں بھی اس کے ساتھ نماز پڑھنا پسندیدہ نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 62):

"في النصاب: رجل صلّى وفي كمّه قارورة فيها بول لاتجوز الصلاة سواء كانت ممتلئةً أو لم تكن؛ لأن هذا ليس في مظانه ومعدنه بخلاف البيضة المذرة؛ لأنه في معدنه ومظانه وعليه الفتوى. كذا في المضمرات".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201255
تاریخ09-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں