بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معصیت / گناہ کے آلات توڑنا

سوال

کیا دوسرے لوگوں کے آلہ گناہ توڑنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

دوسرے لوگوں كے آله گناه كے توڑنے كے بارے ميں فقہاءِ كرام نے تفصیل ذكر كی هے، بعض صورتوں ميں جائز اور بعض صورتوں ميں ناجائز هے، آپ کا سوال بہت عام ہے، جس صورت کے حوالے سے جواب مطلوب ہے وہ متعین کرکے سوال کرلیجیے، ان شاء اللہ متعینہ صورت کا جواب دے دیا جائے گا۔ اصولی جواب یہ ہے کہ  اس طرح كے اقدامات بالعموم  مجاز اتھارٹی کے دائرہ کار میں آتے ہیں، اس لیے جو شخص اس سلسلے میں با اختیار یا مجاز نہ ہو، اس کی جانب سے اس قسم کا اقدام فتنے کے خوف اور  انتظامی انتشار کی وجہ سے درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201242
تاریخ09-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں