بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محراب مسجد کا حصہ ہے یا نہیں؟ اور امام کا محراب میں کھڑا ہونا

سوال

موجودہ دور میں مساجد کے محراب مسجد میں داخل ہیں یا مسجد سے باہر؟ اگر امام کا مصلی بالکل محراب میں ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

مسجد کا  محراب مسجد میں داخل ہوتا ہے۔

امامت کراتے ہوئے امام کا مکمل محراب کے اندر کھڑا ہونا  (یعنی اس کے پاؤں بھی محراب کے اندر ہوں) مکروہ ہے؛ کیوں کہ محراب میں امام کے الگ کھڑے ہونے میں اہلِ  کتاب سے مشابہت ہے، یا اس سے امام کے دائیں بائیں کھڑے ہوئے افراد پر امام کی حالت مشتبہ ہوجاتی ہے، لہذا امام اگر مکمل محراب کے اندر ہو تو اس میں کراہت ہے،   ہاں اگر امام کے قدم محراب سے باہر ہوں اگرچہ سجدہ محراب میں کرے تو پھر کراہت نہیں ہوگی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2 / 28):

"وحقيقة اختلاف المكان تمنع الجواز فشبهة الاختلاف توجب الكراهة، وهو وإن كان المحراب من المسجد كما هي العادة المستمرة فصورته وهيئته اقتضت شبهة الاختلاف…".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 645):

"(وقيام الإمام في المحراب لا سجوده فيه) وقدماه خارجة لأن العبرة للقدم (مطلقاً) وإن لم يتشبه حال الإمام إن علل بالتشبه وإن بالاشتباه ولا اشتباه فلا اشتباه في نفي الكراهة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201238
تاریخ09-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں