پلاٹ کے لیے تنخواہ سے کٹنے والے پیسوں پر زکاۃ کا حکم
سوال
میری تنخواہ سے پلاٹ کے لیے پیسے کاٹے جا رہے ہیں، کیا اس جمع شدہ رقم پر مجھ پر زکاۃ واجب ہو گی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں پلاٹ کے لیے جمع شدہ رقم کو ملا کر اگر آپ کے پاس نصاب یا اس سے زائد قیمت ہوجائے تو سال مکمل ہونے پر اس کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہے۔
نوٹ: یہ جواب اس صورت میں ہے جب کہ صرف "رقم" جمع ہورہی ہو اور پلاٹ نہ لیا ہو۔ اگر پلاٹ لے لیا ہو تو کس نیت سے لیا ہے؟ اور اس کی اقساط کس طرح دینی ہیں؟ ان وضاحتوں کے ساتھ سوال کریں۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 262):
"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم."
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

