بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ کپڑے ناپاک ہیں؟

سوال

میں نے ایک دن نماز پڑھی  تو  دو  گھنٹے بعد مجھے خیال آیا  کہ میرے کپڑے  گندے تھے،  اس حوالے سے اصلاح  کیجیے!

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر سائل کی مراد کپڑے گندے ہونے سے ان پر نجاست کا لگنا ہے، تو اس بارے میں تفصیلی حکم درج ذیل ہے:

اگر ناپاک کپڑوں پر لگی نجاستِ غلیظہ  (پیشاب، پاخانہ، منی وغیرہ) ا یک درہم  یعنی ہتھیلی کے گھیراؤ  کے برابر یا کم  ہے تو نماز ہوجائے گی اور اگر ایک درہم سے  زیادہ  ہے   تو نماز نہیں ہوگی۔ اور ان کپڑوں   میں بھول کر فرض یا واجب نماز پڑھ لی گئی تو  اسے دہرانا لازم ہے۔

اور اگر نجاستِ خفیفہ (مثلاً: حرام پرندوں کی بیٹ)  لگی ہو تو کپڑے کے جس حصے پر لگی ہے، اس کے چوتھائی سے کم ہو تو معاف ہے، اگر چوتھائی یا اس سے زیادہ ہو تو نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب سے ان کپڑوں پر ناپاکی لگنے کا یقین یا غالب گمان ہو، اس کے بعد جتنی نمازیں  ان ناپاک کپڑوں میں پڑھی گئیں ان سب کا اعادہ کرنا ہوگا۔

المبسوط للسرخسی (60/1):

"قلت: فَإِن أصَاب يَده بَوْل أَو دم أَو عذرة أَو خمر هَل ينْقض ذَلِك وضوءه؟ قَالَ: لَا وَلَكِن يغسل ذَلِك الْمَكَان الَّذِي أَصَابَهُ. قلت: فَإِن صلى بِهِ وَلم يغسلهُ؟ قَالَ: إِن كَانَ أَكثر من قدر الدِّرْهَم غسله وَأعَاد الصَّلَاة وَإِن كَانَ قدر الدِّرْهَم أَو أقل من قدر الدِّرْهَم لم يعد الصَّلَاة".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201202
تاریخ08-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں