بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کی فروخت کا کاروبار کرنا

سوال

میں پانی کا کاروبار کرنا چاہ رہا ہوں، اس سلسلہ میں آپ میری راہ نمائی فرمائیں!

جواب

ویسے تو پانی ان اشیاء میں سے ہے، جن کو اللہ پاک نے ہر ایک کے لیے مباح بنایا ہے، اس کی خرید و فروخت منع ہے۔  

  لیکن  اگر کوئی شخص پانی کو   برتن، مشکیزہ، ٹینک، کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے۔ اب اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، اس صورت میں از روئے شرع اس کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے؛ لہذا اگر آپ  پانی کو  فلٹر وغیرہ کرکے  بوتلوں میں  بھر کر فروخت کرتے ہیں، تو شرعاً یہ جائز ہے، بشرطیکہ حکومتی اجازت نامہ حاصل ہو اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت رکھی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"  إن صاحب البئرلایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته". 

(ردالمحتار ج : ۵،  کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء ص: ۶۷)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201191
تاریخ08-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں