بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم کی کٹوتی نہ ہوتو کیا حکم ہے؟

سوال

 یو بی ایل بینک میں مکمل کرنٹ اکاؤنٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟  هيڈ آفس کی طرف سے اجازت هے کہ اس اکاؤنٹ میں سالانہ کٹوتی نهيں هوتي، اور  اگر آن لائن اکاؤنٹ میں بیلینس ڈالنا هو تو اس كي بھی کٹوتی نهيں هوتي؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر ضرورت نہ ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ بھی نہ کھلوانا ہی بہتر ہے، لیکن اگر بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کی ضرورت ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اکاؤنٹ میں  اگر بینک کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈر کو رقم رکھنے پر کسی قسم کا نفع نہ دیا جاتا ہو، صرف سالانہ  کٹوتی  ہو اور بیلنس ڈالنے پر کٹوتی نہ  ہوتی ہو تو ایسا اکاؤنٹ کھلوانے  کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144203201171
تاریخ08-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں