بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گورنمنٹ سکیم میں گھر خریدنے کے لیےقرض لینا

سوال

آج کل ایک گورنمنٹ سکیم چل رہی ہے، جس میں مکان کے لیے قرض دیا جارہا ہے جس کی قسطیں  بیس سال تک  کی ہیں اور اس میں پانچ فیصد انسینٹو (incentive) لیا جارہا ہے جو کہ  بیس سال میں مکان کی قیمت بڑھنے کے حساب سے بتایا جارہا ہے تو اس حساب سے وہ بتا رہے ہیں پانچ فیصد انسینٹو صحیح ہے ۔میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں انسینٹو (incentive ) سے مراد اگر قرض کی رقم پر اضافہ ہے یعنی گورنمنٹ پانچ فیصد زائد رقم وصول کرتی ہے تو پھر یہ سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي: لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع باب المرابحہ فصل فی القرض ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۶۶،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201142
تاریخ07-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں