بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بارک اللہ کے اعراب سے متعلق ایک سوال

سوال

جس طرح خواتین کے لیے ’’جزاكِ اللّٰه‘‘ کہا جاتا ہے تو کیا جواب میں ’’باركِ اللّٰه‘‘ کہا جائے گا؟

جواب

لفظِ ’’جزاك اللّٰه‘‘ کے آخر میں جو حرف "کاف"  ہے، یہ اصلاً ضمیر ہے اور اس سے مراد مخاطب ہوتا ہے، مرد مخاطب ہو گا تو کاف پر زبر آئے گا اور عورت مخاطبہ ہو گی تو کاف پر زیر آئے گا، لیکن  لفظِ ’’بارك اللّٰه‘‘ کے آخر میں جو "کاف" ہے  یہ دراصل ضمیر نہیں، بلکہ حروفِ اصلیہ میں سے ہے اور  اس کا معنیٰ ہے "اللہ برکت عطا فرمائیں"۔

اس لئے "بارک اللّٰه" کا جملہ خواہ مرد کو بولا جائے یا عورت کو، اس کے آخر والے "کاف" پر زبر ہی آئے گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201131
تاریخ07-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں