بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سکیورٹی ڈپوزٹ کی شرعی حیثیت

سوال

 کرایہ دار کو دکان دینے سے پہلے سیکیورٹی کی مد میں ہم نے فی دکان پانچ لاکھ روپے وصول کیے،  چھ سال کا ایگریمنٹ کیا ہے  اور انہی پیسوں سے اپنی زمین پر مارکیٹ آباد  کی ہے،  چھ سال بعد یا تو ہم یہ رقم واپس کریں گے یا پھر اگلے چھ سال کے  لیے ایگریمنٹ کریں گے۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 

جواب

کرایہ دار سے سیکیورٹی ڈپازٹ کے عنوان سے  جو رقم  وصول کی جاتی ہے، اِس کی حیثیت ابتداءً امانت کی ہے اور انتہاءً قرض کی، لہذا جس طرح کسی  سے قرض وصول کر کے اُس کا استعمال کرنا جائز ہے، اسی طرح  (ضرورت اور تعامل الناس کی وجہ سے) سیکیورٹی ڈپازٹ  کی مد میں رقم وصول کرنا اور اُس کا استعمال کرنا جائز ہے۔

پھر ایگریمنٹ کی مدت مکمل ہونے کے بعد اگر کرایہ دار یا مالکِ دکان معاہدہ کی تجدید نہ چاہیں تو یہ رقم کرایہ دار کو واپس کرنا ضروری ہوگا، ہاں اگر اس نے کچھ کرایہ ادا نہیں کیا تو اس کے بقدر اس رقم میں سے کٹوتی کی اجازت ہوگی، اور اگر کرایہ دار اور مالکِ دکان دونوں معاہدے کی تجدید پر راضی ہوں تو اس رقم کو اگلی مدت کے لیے بطورِ سیکیورٹی ڈپازٹ یا کرائے کی مد میں استعمال کرنا بھی  درست ہو گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201124
تاریخ07-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں