بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خطبہ کے دوران طواف کرنا

سوال

جمعہ کے دن دورانِ طواف اگر خطبہ جمعہ شروع ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ طواف کیسے کرے گا اور واجب الطواف دو رکعت کب پڑھے گا؟ اور اگر دوران خطبہ ہی طواف مکمل کرکے دو رکعت بھی پڑھ لے، پھر خطبہ میں شریک ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خطبہ کے دوران طواف شروع کرنا مکروہ ہے، البتہ پہلے سے جاری طواف خطبہ کے دوران مکمل کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ نماز شروع ہونے سے پہلے طواف مکمل کرنا ممکن ہو، نیز خطبہ کے دوران نماز پڑھنا مکروہ ہے؛ اس لیے طواف کی دو رکعت نماز کے بعد ہی پڑھی جائیں۔ 

 اگر خطبہ کے دوران ہی طواف مکمل کرکے دو رکعت طواف پڑھ لے تو ایسا کرنے سے کراہت کے ساتھ نماز ادا ہوگئی، لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

غنیۃ الناسک (127) میں ہے: 

"والطواف عند الخطبة مطلقًا ولو ساكتًا وإقامة المكتوبة، فإن ابتداء الطواف حينئذ مكروه بلاشبهة، وأما إذا كان يمكنه إتمام الواجب عليه وإلحاقه بالصلاة وإدراك الجماعة فالظاهر أنه هو الأولی من قطعه."

(مكروهات الطواف، ط:إدارة القرآن كراچي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201082
تاریخ06-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں