بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تمام ورثاء کا وراثت کی جائیداد کسی ایک وارث کے نام کرنے کا حکم

سوال

کیا والد کے مرنے کے بعد بچے مل کر وراثت کسی ایک وارث کے نام کرسکتے ہیں؟

جواب

وراثت کی جائیداد کسی ایک وارث  کے نام کرنے سے وہ وارث اگرچہ قانونی طور پر تو وراثت کی جائیداد کا مالک بن جائے گا، لیکن شرعی طور پر وہ ایک وارث  صرف جائیداد نام پر ہونے سے مالک نہیں بنے گا، اس لیے وراثت والی جائیداد پہلے تمام ورثاء میں باقاعدہ تقسیم کرنا یا کم از کم ہر ایک وارث کے حصہ کی تعیین کرنا ضروری ہے، اس کے بعد اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنا حصہ کسی دوسرے کو ہبہ کر کے مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار دے دے تو وہ  مالک بن جائے گا۔ 

" تکملة رد المحتار علی الدر المختار"  میں ہے:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

(ج: 7/ص:505 / کتاب الدعوی، ط :سعید)

"الأشباہ والنظائر"  لابن نجیم   میں ہے:           

"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك".

 (ص؛309/ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ/ط:قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201060
تاریخ05-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں