بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے بل بھرنے کی صورت میں ملنے والے کیش بیک کا حکم

سوال

آج کل ایزی پیسہ والے بجلی بل یا گیس بل وغیرہ کی مد میں بل پے پر 10پرسنٹ کیش بیک کرتے ہیں۔جسیے 2000 ایزی بل کے ذریعے ادا کرنے پر 200 روپے دینا کیا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں صارف کی جو رقم موجود ہوتی ہے اُس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور قرض پر دیا جانے والا مشروط نفع سود ہوتا ہے، اس لیے   اگر کوئی صارف اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم سے بجلی یا گیس کا بل بھرتا ہے اور اُس کے عوض میں کمپنی کی طرف سے اُس کو دس فیصد کیش بیک ملتا ہے تو چوں کہ یہ کیش بیک قرض رکھوانے کے عوض میں ملا ہے؛ اس لیے اس کیش بیک کا وصول کرنا اور اس کو اپنے استعمال میں لانا دونوں جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201032
تاریخ05-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں