بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں باہر نکلنا

سوال

میری بہن کی طلاق ہوگئی، اس کے سسر  اور ساس تشدد کرتے تھے، طلاق کے بعد عدت کتنی ہے؟ کیا گھر سے باہر نکل سکتی ہے دن میں؟

جواب

             نکاح کے بعد رخصتی یا خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو تو طلاق کے بعد عدت مکمل تین ماہواریاں گزرنا ہے، بشرط یہ کہ عدت گزارنے والی خاتون امید سے نہ ہو، اگر وہ امید سے ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ اگر کسی عورت کے ایام آنا بند ہوگئے ہوں تو اس کے لیے عدت تین مہینے ہوگی۔ اگر نکاح کے بعد رخصتی یا خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو تو طلاق کے بعد عدت نہیں ہے۔

              طلاق کی عدت کے دوران عورت کے لیے بلاضرورتِ شدیدہ گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، اگر طلاقِ بائن ہو  تو زیب و زینت اختیار کرنا جائز نہیں، اگر طلاقِ رجعی ہو تو بیوی کے لیے زیب و زینت اختیار کرنا جائز ہے، بلکہ بہتر ہے، تاکہ شوہر رجوع پر آمادہ ہو۔

"فتاوی شامی " میں ہے:

"( وتعتدان ) أي معتدة طلاق وموت ( في بيت وجبت فيه ) ولا يخرجان منه ( إلا أن تُخرج أو ينهدم المنزل أو تخاف ) انهدامه أو ( تلف مالها أو لاتجد كراء البيت ) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه." (3/536،دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201022
تاریخ05-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں