بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امتحان گاہ میں نقل کرنا

سوال

امتحان میں نقل کرنا ٹھیک نہیں ہے، اور اگر بہت سارے لڑکے ایک بڑے ہال میں ہوں اور وہ پیپر دے رہے ہوں، ان میں سے مثال کے طور پر ایک یا دو یا تین لڑکے ہوں جو اپنی محنت سے پیپر حل کررہے ہوں اور دوسرے تمام لڑکے نقل میں لگے ہوں اور جب رزلٹ آئے تو محنت کرنے والوں کے نمبر کم آئیں اور نقل کرنے والوں کے زیادہ آئیں، جس کی وجہ سے محنت کرنے والے لڑکے پریشان ہوجائیں، پھر دوبارہ  یہ لڑکے پیپر دیتے ہیں اور اس بار  وہ  دیگر لڑکوں کی طرح نقل کر کے اچھے نمبروں سے  پاس ہوں،  تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

نقل کرنا ضابطے  کے خلاف عمل اور دھوکا دہی و فریب کے زمرے میں داخل ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں، خواہ تمام طلبہ نقل کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں، پس اگر کسی طالب علم نے نقل کرکے امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنے اس دھوکا دہی کے گناہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200964
تاریخ04-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں