بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران میاں بیوی کا بات چیت کرنا

سوال

عدّت کے دوران میاں بیوی ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں؟

جواب

طلاقِ رجعی کی عدت میں عدت کے ختم ہونے تک شوہر کوبیوی سے رجوع کا حق باقی رہتا ہے، اس لیے طلاقِ رجعی کی عدت میں میاں بیوی کا بات چیت کرنا درست ہے۔ اور اگر اس بات چیت میں شوہر زبانی طور پر  رجوع کرتا ہے تو رجوع بھی شرعاً ثابت ہوجائے گا۔

البتہ طلاقِ بائن یا طلاقِ مغلظہ (تین طلاقوں) کی صورت میں چوں کہ باہمی نکاح ختم ہوجاتا ہے، اور میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں، اس لیے  طلاقِ بائن یا طلاقِ مغلظہ کی عدت میں ضرورت شدیدہ کے بغیر باہمی بات چیت کرنا درست نہیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200963
تاریخ04-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں