بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہیبہ بتول نام رکھنا

سوال

 میری بیٹی کا نام میں نے "ہیبہ بتول" رکھا ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟ مہربانی راہنمائی فرما دیں!

جواب

"ہیبہ" ـ(هَیْبَهْ) کا معنی  "رعب، دہشت اور ڈر" ہے۔

’’بتول‘‘ کا معنی ہے: زاہدہ خاتون، یعنی اللہ کی رضا کے لیے اپنی دنیوی خواہشات کو قربان کرنے والی خاتون۔

اس نام میں اصل نام چوں کہ  "ہیبہ" ہے، "بتول" کو لاحقہ کے طور پر لگایا جارہا ہے،  جب کہ "ہیبہ" نام بعض معانی کے اعتبار سے مناسب نہیں ہے، گو بعض درست معانی کی وجہ سے جائز ہے؛ اس لیے مذکورہ نام کے بجائے صحابیات کے ناموں میں کسی نام کا انتخاب کرکے رکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔

البتہ اگر آپ "ہبہ بتول" نام رکھنا چاہتے ہیں تو یہ نام درست ہے، رکھ سکتے ہیں، "ہبہ" کا معنٰی ہے: "ہدیہ/ گفٹ"۔

ہماری ویب سائٹ اور ایپلی کیشن میں "اسلامی ناموں" کےعنوان سے ایک آپشن موجود ہے، وہاں سے بھی آپ نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144203200951
تاریخ03-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں