بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام سنایہ رکھنا

سوال

"سنایہ" نام رکھنا کیسا هے؟ کیا"سنایہ"کے معنی "مکمل چیز" ہیں؟ لغت میں یہ لفظ نہیں ملا، لیکن اس ویب سائٹ پر یہ نام فہرست میں موجود هے۔ کیا میں یہ بیٹی کا نام رکھ لوں؟

جواب

"سنایہ" (سِنَايَة)  کے معنی ہیں: تمام (مکمل) چیز، پوری کی پوری،  جیسے کہا جاتا ہے  "أخذته بسنايته" میں نے اس کو سارا کا سارا (یعنی مکمل) لے لیا۔ (المنجد ، ص 400، ط: خزینہ علم وادب ، لاہور)

نيز اس كا ایک معنی سیراب کرنا بھی آتا ہے۔

بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے۔

تاج العروس (38 / 318):

"والسُّنُوُّ، كعُلُوَ،} والسِّنايَةُ والسِّناوَةُ، بكسْرِهما: السَّقْي".

القاموس المحيط (1 / 1297):

"والقَوْمُ يَسْنونَ لأنْفُسِهِم: إذا اسْتَقَوْا. والأرضُ مَسْنُوَّةٌ ومَسْنِيَّةٌ.

وأخَذَهُ بِسِنايَتِهِ: كُلَّهُ".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144203200949
تاریخ03-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں