بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بول کر کرایہ کی مد میں اضافی پیسے لینا

سوال

میرے ادارے میں ہمیں گھر کا کرایہ 2250 روپے ہماری تنخواہ میں ملتا ہے، لیکن اگر کوئی اپنے گھر کے یا اگر کرائے پر رہتا ہو تو وہ اُس گھر کے کاغذات جمع کروائے تو اسے  6700 روپے ملےگا، مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی کرائے پر نہیں رہتا اور کسی اور کے گھر کے کاغذات جمع کروا کر جھوٹ بولے کہ میں کرائے پر رہتا ہوں، کرایہ 10000 روپے دیتا ہوں، جب کہ وہ کرائے کے گھر میں نہیں رہتا ہو۔ زیادہ پیسوں کے لیے جھوٹ بول کر کسی اور کے گھر کے کاغذات جمع کرے، تو کیا یہ جو پیسے زیادہ لے رہا ہے، وہ اُس کے لیے حلال ہے جب کہ وہ جھوٹ بول کر لے رہا ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جھوٹ بول کر کرایہ کی مد میں اضافی رقم وصول کرنا اور اسے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200936
تاریخ03-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں