بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ وصول کرنا

سوال

دکان، مکان کا کرایہ وقت پر ادا نہ کرنے پر سرچارج لینا کیا سود ہے؟

جواب

شریعت میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں دکان یا مکان کا کرایہ ادا کرنے میں تاخیر کی صورت میں سرچارج/ جرمانہ وصول کرنا شرعاً سود  ہے۔  اگر اب تک جرمانہ وصول کیا ہو، تو وہ کرایہ دار کو واپس کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:(4/61):

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

مجمع الأنهر، (371/2):

"وفي البحر: ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب".

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200928
تاریخ03-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں