کرایہ وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ وصول کرنا
سوال
دکان، مکان کا کرایہ وقت پر ادا نہ کرنے پر سرچارج لینا کیا سود ہے؟
جواب
شریعت میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں دکان یا مکان کا کرایہ ادا کرنے میں تاخیر کی صورت میں سرچارج/ جرمانہ وصول کرنا شرعاً سود ہے۔ اگر اب تک جرمانہ وصول کیا ہو، تو وہ کرایہ دار کو واپس کرنا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:(4/61):
"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
مجمع الأنهر، (371/2):
"وفي البحر: ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب".
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

