بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نامعلوم میت کی نماز جنازہ کا حکم

سوال

نا معلوم میت (یعنی جس کے بارے یہ معلوم نہیں کہ یہ مسلمان ہے یا نہیں) کی نماز جنازہ کے بارے کیا حکم ہے؟ 

جواب

کسی مردہ انسان کے مسلمان ہونے نہ ہونے کا علم چند چیزوں سے ہوسکتا ہے:  ختنہ، بالوں کا خضاب اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی، اگر ان میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے تو پھر اگر وہ مردہ  مسلمانوں کی آبادی میں ملے تو مسلمان سمجھا جائے گا، اور اس کے غسل وکفن اور نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ 

قال في الدر :

"[فُرُوعٌ] لَوْ لَمْ يُدْرَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ، وَلَا عَلَامَةَ فَإِنْ فِي دَارِنَا غُسِّلَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ وَإِلَّا لَا."

 وفي الرد:

"(قَوْلُهُ: فَإِنْ فِي دَارِنَا إلَخْ) أَفَادَ بِذِكْرِ التَّفْصِيلِ فِي الْمَكَانِ بَعْدَ انْتِفَاءِ الْعَلَامَةِ أَنَّ الْعَلَامَةَ مُقَدَّمَةٌ وَعِنْدَ فَقْدِهَا يُعْتَبَرُ الْمَكَانُ فِي الصَّحِيحِ لِأَنَّهُ يَحْصُلُ بِهِ غَلَبَةُ الظَّنِّ كَمَا فِي النَّهْرِ عَنْ الْبَدَائِعِ. وَفِيهَا أَنَّ عَلَامَةَ الْمُسْلِمِينَ أَرْبَعَةٌ الْخِتَانُ وَالْخِضَابُ وَلُبْسُ السَّوَادِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ اهـ لُبْسُ السَّوَادِ لَمْ يَبْقَ عَلَامَةً لِلْمُسْلِمِينَ."

(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ٢/ ٢٠٠،٢٠١، دار الفكر-بيروت  ١٤١٢ھ - ١٩٩٢ء)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200887
تاریخ02-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں