بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خرید و فروخت میں منافع کی حد

سوال

کاروبار میں منافع کی حد کیا ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے خرید و فروخت میں منافع کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں کی ہے کہ جس سے تجاوز کرنے کی صورت میں منافع کو حرام قرار دیا جائے، بلکہ اسے خریدار اور فروخت کنندہ کی باہمی رضامندی پر موقوف رکھا ہے، البتہ کسی کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے  مطلوبہ اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی ہے، اور بازار میں منافع کی چلن سے زائد منافع وصول کرنے کو نا مناسب عمل  قرار دیا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے، مندرجہ ذیل لنک میں موجود فتوی دیکھیے!

کاروبار میں منافع کی شرعی حد اور اس کا حکم

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200866
تاریخ02-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں