بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ ، چار بیٹے اور سات بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

ایک شخص نے وفات پائی ہے اور ورثاء میں بیوہ، 4 بیٹے اور  7 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کے  اخراجات نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کسی کا قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے ادا کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو  120 حصوں میں تقسیم کرکے 15 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14،14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7،7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی 100 روپے میں سے 12.50 روپے مرحوم کی بیوہ کو، 11.66 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور  5.83 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200827
تاریخ01-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں