بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں نماز پڑھنے کا طریقہ

سوال

ہم 100 kmسفر  پر جاتے ہیں  ایک  گھنٹے کے لے یا دو  گھنٹے کے لئے، تو نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہو گا؟

جواب

اگر کوئی شخص تین دن تین رات کی مسافت کے سفر کے ارادہ سے نکلے، یعنی ۴۸ میل یاسوا ستتر کلومیٹر کی مسافت پر جائے اور اس شخص کا ارادہ پندرہ دن سے کم قیام کا ہو، خواہ ایک یا دو گھنٹے کے لئے ہی جا رہا ہو  تو یہ شخص قصر پڑھے گا بشرطیکہ جہاں قیام کر رہا ہے وہ جگہ مسافر کا وطن اصلی نہ ہو۔

قصر کا مطلب یہ ہےکہ ہر چار رکعت والی فرض دو پڑھے گا،مغرب کی نماز حسب سابق تین رکعت ہی پڑھی جائیگی، سنتوں  کا حکم دوران قصر یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے علاوہ باقی نمازوں کی موکدہ  سنتیں نہ پڑھنے کا اختیار ہوگا، البتہ پڑھ لینا افضل ہے، نیز وتر کی نماز بھی واجب رہے گی۔

اور  اگر شرعی مسافر  مقیم امام کی اقتدا میں کوئی بھی نماز (پنج وقتہ نمازیں، رمضان المبارک میں تراویح اور وتر، نمازِ جمعہ و عیدین) ادا کرے، تو مقیم کی اقتدا کی وجہ سے اسے یہ تمام نمازیں مکمل ادا کرنی ہوں گی۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200771
تاریخ31-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں