بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوریکس ٹریڈنگ کا حکم

سوال

فوریکس ٹریڈنگ  حلال ہے یا حرام؟

جواب

آج کل فاریکس (forex) کے نام سے بین الاقوامی سطح پر ایک کاروبار رائج ہے، اس کاروبار کو "فاریکس ٹریڈنگ" کہتے ہیں، اس کاروبار میں سونا، چاندی، کرنسی، کپاس، گندم، گیس، خام تیل، جانور اور دیگر بہت سی اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے، ہمارے علم کے مطابق "فاریکس ٹریڈنگ" کے اس وقت جتنے طریقے رائج ہیں  وہ  شرعی اصولوں کی مکمل رعایت نہ ہونے اور شرعی سقم کی موجودگی کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ لہٰذا ان معاملات سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ہاں سے ایک تفصیلی فتویٰ شائع ہوچکا ہے جو درج ذیل لنک سے آپ حاصل کرسکتے ہیں:

فاریکس کے کاروبار کا حکم

اور اگر آپ کسی خاص صورت سے متعلق دریافت کرناچاہتے ہیں تو اس کی تفصیل ،شرائط وضوابط لکھ کر سوال بھیج دیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200754
تاریخ31-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں