بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سسر کی دستاویز اجازت کے بغیر لینا

سوال

اگر بیوی اپنے شوہر کے والد محترم یعنی اپنے سسر کے کسی سرکاری دستاویز کو بغیر اپنے شوہر کی اجازت اور اپنے سسر کی اجازت کے چوری چھپے اپنے گھر والوں کو دے دے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بہو کے لیے اپنے سسر  کی کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر لینا گناہ ہے، اس عمل پر توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے، نیز  بہو پر لازم ہے کہ وہ اپنے سسر کے سرکاری دستاویز ان کو لوٹا دے یا کسی بھی طرح ان تک پہنچا دے اگر وہ حیات ہیں اور اگر ان کا انتقال ہوگیا ہے تو ان کے ورثاء تک پہنچا دے اگر چہ ان کے سامنے چوری کی صراحت کرنا ضروری نہیں ہے۔

"لأن السرقة في اللغة: أخذ الشيء من الغیر علی سبیل الخفیة والاستسرار بغیر إذن المالک، سواء کان المأخوذ مالاً أو غیر مالٍ … قال اللّٰه تعالیٰ: {اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ}."

(معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة۲؍۲۶۳)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200679
تاریخ29-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں