بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی خالہ سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

ایک آدمی نے دوسری شادی کرلی اور اس کی پہلی بیوی سے پانچ بچے ہیں، تو کیا اس دوسری بیوی کی بہن سے پہلی بیوی کا بیٹا نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ شخص کی دوسری بیوی کی بہن،  پہلی بیوی کے بیٹے  کی سوتیلی خالہ  ہے، لہٰذا ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے، بشرطیکہ کوئی اور شرعی ممانعت (مثلاً رضاعت کا رشتہ) موجود  نہ ہو۔

الأصل للشيباني (ج:10، ص:185، ط:دار ابن حزم، بيروت - لبنان):

’’و لا بأس بأن يتزوج الرجل المرأة، و يتزوج ابنه ابنتها أو أمها أو أختها أو عمتها أو خالتها أو ذات رحم محرم منها. و كذلك لا بأس أن يتزوج ذلك أبوه مكان ابنه.‘‘

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:3، ص:31، ط:دار الفكر-بيروت):

’’قال الخير الرملي: و لا تحرم بنت زوج الأم و لا أمه و لا أم زوجة الأب و لا بنتها و لا أم زوجة الابن و لا بنتها و لا زوجة الربيب و لا زوجة الراب. اهـ.‘‘

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:277، ط:دار الفكر):

’’لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة و يتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي.‘‘

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200628
تاریخ28-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں