بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرغی کا گوشت کھانے کا حکم

سوال

مرغی کا گوشت کھانے کا کیا حکم ہے؟ میں نے سنا ہے کہ مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے  ایسی خوراک دی جاتی ہے جس کے اجزاء کسی بھی مسلمان کے لیے  کھانا حرام ہیں ، ایسی صورت میں مرغی کا گوشت حلال ہے یا حرام؟

جواب

شرعی طور پر ذبح  شدہ برائلر مرغی کاکھاناحلال ہے، محض لوگوں کی قیاس آرائیوں کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیاجاسکتا۔ نیز مرغی کی فیڈ میں خالص حرام  یا جس میں حرام غالب ہو،ایسی خوراک مرغیوں کو کھلانا حرام ہے، یعنی انسان جو شرعی اَحکام کا مکلف ہے، وہ مرغی کو ایسی غذا دے، یہ حرام ہے،  مگر ایسی مرغی جسے حرام کھلایا گیا ہو  اگر اس میں حرام کی بو نہ ہو تو اس کاکھانا جائز ہے۔ دیسی مرغی بھی کیڑے مکوڑے کھاکر پلتی بڑھتی ہے۔ بہرحال کسی حلال جانور کا حرام یا ناپاک چیز کھالینا اس کے حرام ہونے کی کافی وجہ نہیں ہے، ہاں اگر اس جانور میں ناپاک یا حرام چیز کی بو پیدا ہوجائے تو جب تک اس میں یہ بو محسوس ہو، اس وقت تک اس حلال جانور کا کھانا ممنوع ہے، اور جب وہ بو زائل ہوجائے تو اس جانور کا کھانا بھی جائز ہوتاہے، فارمی مرغی میں نجاست یا حرام کی بو نہیں ہوتی ؛ اس لیے کا کھانا جائز ہے۔ رہا اس کامضر صحت ہونا تواطباء ہی اس کابہتر جواب دے سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200598
تاریخ28-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں