بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں لگے درخت کے پھل کھانا

سوال

مسجد میں لگے  درخت کے پھل کھانے کا کیا حکم ہے آیا یہ جائز ہے یا ناجائز ہے یا اس پر اجرت لے سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مسجد  کے احاطہ میں لگے  ہوئے پھل دار درخت اگر واقف یا  درخت لگانے والے نے  عا م لوگوں کے استعمال کے لیے لگائے ہیں تو   لوگ ان درختوں کے پھلوں کو  کھاسکتے ہیں، لیکن  اگر یہ مسجد کی آمدنی کے لیے لگائے ہیں یا اس کی نیت معلوم نہیں ہے تو اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد  کے مصارف میں صرف کرنا ضروری ہے، مسجد میں اس کی قیمت ادا  کیے بغیر اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 221):

"وفي الحاوي: و ما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل و هو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها، و إن غرس للمسجد لايجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد، الأهم فالأهم كسائر الوقف، وكذا إن لم يعلم غرض الغارس. اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 432):

"في الحاوي: غرس في المسجد أشجارًا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد.

(قوله: إن غرس للسبيل) وهو الوقف على العامة، بحر (قوله: وإلا) أي وإن لم يغرسها للسبيل بأن غرسها أو لم يعلم غرضه، بحر عن الحاوي، وهذا محل الاستدلال على قوله الظاهر: أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل، وهو ظاهر، فافهم."

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200578
تاریخ27-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں