بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز سے پہلے مسجد میں تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم

سوال

گھر میں فجر کی سنت پڑھنے کے بعد کیا ہم تحیۃالمسجد پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ صبح صادق کے بعد سے لے کر اشراق کا وقت ہوجانے تک فجر کی سنتوں کے علاوہ (گھر میں یا مسجد میں) دیگر نوافل اداکرنا  شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا بصورتِ مسئولہ فجر کی سنتیں گھر پر پڑھنے کے بعد مسجد میں تحیۃ المسجد کی نماز پڑھناجائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا) الحكم من كراهة نفل وواجب لغيره لا فرض وواجب لعينه (بعد طلوع فجر سوى سنته) لشغل الوقت به.

(قوله: لشغل الوقت به) أي بالفجر أي بصلاته، ففي العبارة استخدام ط أي لأن المراد بالفجر الزمن لا الصلاة،

والكراهة هنا تحريمية أيضًا كما صرح به في الحلية ولذا عبر في الخانية والخلاصة بعدم الجواز، والمراد عدم الحل لا عدم الصحة كما لايخفى."

(كتاب الصلوة، ج:1، ص:374/75، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200526
تاریخ26-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں