جلد پر لگانے والی کریموں کا حکم
سوال
آج کل "snail mucin" جلد پہ لگانے کی کریموں میں شامل ہوتا ہے، ایسی کریموں کو اپنی جلد پہ لگانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب
"sanil" سیپی کے کیڑے کو کہتے ہیں، عربی زبان میں اس کا نام "حَلَزون" ہے، چوں کہ یہ حشرات الارض میں سے ہے،اور خبائث میں داخل ہیں، اس لیے اس کا کھانا حرام ہے، لیکن اس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، اس لیے اس کے اجزاء پاک ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کیڑے سے کشید کیا ہوا "snail mucin" کا خوردنی استعمال تو جائز نہیں ہے،اس ليے كه اس كا كھانا حرام ہے۔ البتہ خارجی استعمال کی مصنوعات میں اس کا استعمال جائز ہے، اس لیے کہ اس کے اجزا پاک ہیں۔ لہذا جسم کی جلد پر لگانے والی کریموں میں "snail mucin" شامل ہوتو اس کا استعمال جائز ہوگا۔
فاکهة البستان میں ہے:
"الحلزون۔ بفتحين۔ كذا في القاموس۔: وهو دودة في جوف انبوبة حجرية توجد تلك الانبوبة في سواحل البحار وشطوط الانهار ... حكمة: التحريم لاستخباثه۔ كذا في عين الحياة"۔(ص: 362، ط: دارالكتب العلميه)
الفتاوى الهندية ميں هے:
"وموت ما ليس له نفس سائلة في الماء لا ينجسه كالبق والذباب والزنابير والعقارب ونحوها".(1 / 24، ط: رشيديه)"
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

