بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا باہم سیکسٹنگ کرنا

سوال

کیا میاں بیوی میں سیکسٹنگ جائز ہے جب شوہر نوکری یا کسی اور کام کی وجہ سے گھر سے باہر ہو؟

جواب

میاں بیوی کا "سیکسٹنگ " (فون پر جنسی باتوں اور تصاویر وغیرہ کا تبالہ) میں اگر تصاویر کا تبادلہ ہو یا ویڈیو کال کے ذریعے بات چیت ہو  تو چوں کہ یہ جان دار کی تصاویر پر مشتمل ہے، اس لیے یہ جائز نہیں ہے۔

اور اگر یہ عمل  اس حد تک ہو کہ دونوں میسج یا آڈیو پیغام کے ذریعے آپس کی باتیں کرتے ہوں تو  تنہائی میں (جب قریب کوئی شخص موجود نہ ہو) ایسی باتیں کرنے کی گنجائش تو ہے، لیکن  میاں بیوی کو فون پر جنسی تعلق کی باتیں فون کال پر کرنے سے بھی حتی الامکان اجتناب  کرنا چاہیے، اس لیے کہ  ٹیکنالوجی کے اس دور میں نجی کالز اور ذاتی میسجز  بھی ریکارڈ ہوتے ہیں، اور کمپنیوں کے کال سینٹرز  اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں بعض اوقات اخلاقی لحاظ سے کم زور انسان تعینات ہوتے ہیں، اس لیے پیش بندی کے طور پر  فون پر بالخصوص رخصتی سے پہلے  جنسی باتیں کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200470
تاریخ25-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں