بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے ہی شریک کو مکان بیچنا

سوال

میں نے دو کروڑ کا ایک مکان لیا، اس پر ایک شخص نے کہا مجھ سے پارٹنرشپ کرلو یعنی ایک کروڑ کی، اور نفع کا تناسب آدھا آدھا طے ہوگیا، اب یہی پارٹنر کہتا ہے کہ تین مہینہ بعد یہ دو کروڑ کا مکان میں دو کروڑ پندرہ لاکھ کا لے لوں گا، آیا اپنے پارٹنر سے اس طرح کام کرنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پارٹنر شپ کا معاہدہ ہونے کے بعد  وہ کل مکان کے آدھے حصے میں آپ کا شریک ہے، اگر آپ  اپنا حصہ  اس کو فروخت کرنا چاہیں تو اس کو قیمت طے کرکے فروخت کرسکتے ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 300):

"(وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه)؛ لعدم تضمنها الوكالة (فصحّ له بيع حصّته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء وشجر وزرع مشترك، قهستاني، وتمامه في الفصل الثلاثين من العمادية".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200435
تاریخ24-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں