بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو گھر جاؤ، چلی جاؤ وغیرہ جملے کہنے کا حکم

سوال

مجھے  بیوی کبھی بھت تنگ کرتی ہے، میں انہیں اکثر کہتا ہوں کہ گھر جاؤ، تم ادھر خوش رہو،  مجھے ادھر آرام سے رہنے دو، اکثر وہ مطالبات کرتی ہے،  کبھی بار بار باپ کے گھر جانے پر اکثر اس پر لڑائی ہوتی ہے،  میں کہتا ہوں اگر ادھر آپ کی خوشی ہے تو  خدا کے لیے چلی جاؤ، میں بھی اس پر خوش ہوں ادھر میرے گھر پر کیا کرتی ہوں، اس طرح کے جملے کہنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ نے جو اپنی بیوی کو کہے  ہوئے جملہ ذکر  کیے ہیں، مثلًا  ” گھر جاؤ“، ”چلی جاؤ“  وغیرہ، تو یہ کنایہ الفاظ ہیں، اگر ان جملوں سے طلاق کی نیت ہو تو طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے اور اگر ان سے طلاق کی نیت نہ ہو تو  بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا اگر آپ نے  طلاق کی نیت کے بغیر یہ جملے کہے ہیں تو اس سے آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

البحر الرائق(3/ 326):

’’(قوله: اخرجي اذهبي قومي) لحاجة أو لأني طلقتك، قيد باقتصاره على اذهبي؛ لأنه لو قال: اذهبي فبيعي ثوبك لايقع، وإن نوى، ولو قال: اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى،كذا في الخلاصة، ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان‘‘. 

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200430
تاریخ24-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں