بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیان نام

سوال

زیان نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’زیان‘‘ لفظ فارسی اور عربی دونوں لغات میں مستعمل ہے، البتہ دونوں لغات میں تلفظ اور معنیٰ میں بہت فرق ہے۔

ہمارے ہاں اس کا عمومی استعمال فارسی زبان کے مطابق ہے، چناں چہ ’’زیان‘‘/ ’’زیاں‘‘ (زا کے نیچے زیر اور یا کے اوپر فتحہ بغیر تشدید کے) کا معنی ہے: نقصان، ضرر اور خسارہ، لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔

البتہ عربی میں ’’زَیَّان‘‘ (زا پر زبر، ی پر تشدید اور زبر ’’زَیَّان‘‘) زین سے مستعمل ہوسکتاہے، جس کا معنیٰ زینت ہے، ’’زَیَّان‘‘ کا معنیٰ ہوگا مزین، زینت والا۔ اس تلفظ اور معنیٰ کے لحاظ سے نام رکھ سکتے ہیں۔

 زیان سے ملتا جلتا نام ’’ریان‘‘  رکھ لیں جس کا معنی ہے:  سیراب کرنے والا، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے  کا نام ریان ہے جو کہ کثرت سے روزہ رکھنے والوں کے داخل ہونے کے لیے مخصوص ہے۔ یہ نام بھی رکھ سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144203200385
تاریخ24-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں