بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واجب الوصول کرایہ پر زکوۃ

سوال

اگر مکان کرایہ پر دیا ہو اور کرایہ ملنے کی امید ہے،  لیکن ابھی تک کرایہ ملا نہیں ہے تو اس کرایہ کو  قابل زکوۃ اثاثوں میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟

جواب

کرایہ کی رقم جب تک وصول نہ ہوجائے  وہ ملازم کی ملکیت میں نہیں آتی، بلکہ کرایہ دار کے  ذمہ واجب الادا ہوتی ہے اور  یہ دین ضعیف ہے؛   لہذا  جب  تک وصول نہ ہو تب تک اس کی زکوۃ  آپ پر لازم  نہیں ۔

"و أما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -: ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلاً عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلاً عن شيء كالوصية أو بفعله بدلاً عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصاباً ويحول عليه الحول."

(1/ 175،کتاب الزکوۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200311
تاریخ23-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں