بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام افرح، فرح نام رکھنا

سوال

 میری بیٹی پیدا ہوئی ہے، میں اس کا نام ”افرح“ رکھنا چاہتا ہوں، کیا میں یہ نام رکھ سکتا ہوں؟

جواب

"افرح" عربی زبان کا لفظ ہے، اگر یہ ہمزہ کے زیر، اور ح کے سکون کے  ساتھ ہو تو  یہ امر کا صیغہ ہے، اس کے معنی ہیں: تو ایک مرد خوش ہو،  یہ نام رکھنا بہتر نہیں ہے۔

اور اگر یہ ہمزہ کے زبر، اور ح کے پیش کے ساتھ  (أَف‍ْرَح)  ہو  تو اس کے معنی ہیں: نسبتاً زیادہ خوش ہونے والا،   لہذا اس تلفظ کے اعتبار سے بیٹی کا نام "أَف‍ْرَح" رکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح  اس کے قریبی ایک نام  ’’فَرَح‘‘  ہے ۔ اس  کے معنی ہیں: خوشی، خرّمی، شادمانی، (فیروزاللغات) یہ نام بھی رکھ سکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144203200289
تاریخ22-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں