بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جب حیاء نہ رہے تو جو چاہے کرتے رہو

سوال

"إذا فاتتِ الحياءُ فافعلْ ما شِئتَ"،کیا یہ حدیث ہے ؟

جواب

متعدد صحیح احادیث مباركه سے اس طرح کا مفہوم ثابت ہے، اگرچہ الفاظ مختلف ہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری کی روایت ہے :

"ربعي بن حراش، يحدث عن أبي مسعود، قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن مما أدرك الناس من كلام النبوة، إذا لم تستحي فاصنع ما شئت."

(صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب حديث الغار، الرقم: 3483، 4: 177، دار طوق النجاة، ط: الأولى، 1422ه)

"حضرت ربعي بن حراش ، حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے نبوی  ہدایات میں  سے جوحاصل کیا   ہے، ان میں سے ایک بات یہ کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتے پھرو! "

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200261
تاریخ22-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں