بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو فرضی کہانیاں سنانا

سوال

 بعض اوقات  بوڑھے لوگ بچوں کو بنا ہوا قصہ سناتے ہیں،  اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچوں کی تربیت، ذہن تیز کرنے،  اور ان کی تعلیمی دل چسپی  بڑھانے وغیرہ  کے لیے  انہیں  اخلاقی، اصلاحی اور سبق آموز کہانیاں سنانا جائز ہے، اگرچہ وہ فرضی بنائی ہوئی ہوں، تاہم اگر اسلام کے قابلِ رشک حقیقی کرداروں کے حقیقی واقعات  دل چسپ پیرائے میں بچوں کو سنائے جائیں تو یہ ان کی تربیت کے لیے زیادہ مؤثر اور بہتر ہے۔

اور ایسی کہانیاں جس میں اسلامی اقدار کی توہین ہو، یا  وہ کہانیاں شرعًا و اخلاقًا  درست نہ ہوں تو وہ سنانا جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200236
تاریخ21-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں