بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ثناء سے پہلے لفظ ثناء کہنے سے نماز کا حکم

سوال

مجھے یہ حوالہ  چاہیے کہ نماز میں لفظِ "ثنا"   کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی!

جواب

بظاہر آپ کے سوال کا مقصد  نماز کے شروع میں جو ثناء پڑھی جاتی ہے اس سے پہلے لفظ ثناء  کے اضافے  کا حکم معلوم کرنا ہے  تو  اس کا جواب یہ ہے کہ لفظِ  ثنا   چوں کہ عنوان ہے،  ثنا  کا حصہ نہیں ہے، اس لیے  ’’سبحٰنك اللّٰهم ...‘‘ الخ سے پہلے اس کو نہیں پڑھنا چاہیے، البتہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی؛کیوں کہ یہ لفظ  عربي زبان كا هے اور کلام الناس کے مشابہ بھی  نہیں،  بلکہ آگے جو  ثناء  کی صورت  میں  اللہ  کی حمد کی جارہی ہے، اسی  کا عنوان ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 521):

"(ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها ...... (بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة. لا بما يشبه كلام الناس)".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 523):

"والمختار كما قاله الحلبي أن ما هو في القرآن أو في الحديث لايفسد، وما ليس في أحدهما إن استحال طلبه من الخلق لايفسد، وإلا يفسد لو قبل قدر التشهد".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200230
تاریخ21-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں