بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کو زکاۃ دیتے وقت کام میں بہتری کی امید رکھنا

سوال

اگر اپنے ملازم کو زکاۃ دیتے وقت زکاۃ کی نیت کے ساتھ یہ امید بھی رکھی جائے کہ یہ میرے کام کو مزید اچھی طرح سے انجام دےگا اور کام چھوڑ کر نہیں جائے گا تو کیا اس طرح کی امید کے ساتھ زکاۃ ادا ہوجائے گی؟

جواب

اگر ملازم مسلمان ہے، غریب اور محتاج ہے، نصاب کا مالک نہیں تو اس کو تن خواہ کے علاوہ محتاج ہونے کی  وجہ سے زکاۃ دینا جائز ہے، اور اسے زکاۃ دینے زکاۃ ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ وہ کسی عمل کے معاوضے میں نہ ہو۔ نیز زکاۃ دیتے ہوئے صرف دل ہی دل میں یہ امید رکھنے سے  کہ "وہ مزید اچھا کام کرے گا اور کام چھوڑ کر نہیں جائے گا" زکاۃ کی ادائیگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ اس کے بعد اگر وہ ملازمت چھوڑ کر بھی چلا جائے تو دل پر بوجھ نہ ہو کہ اسے زکاۃ نہیں دینی چاہیے تھی۔ 

الفتاوى الهندية (1/ 189):

"ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي."

(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف،ط: رشیدیة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200227
تاریخ21-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں