بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنے کا حکم

سوال

قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا کیسا ہے؟

جواب

حدیثِ پاک میں نبی کریم ﷺنے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی جانب پشت کرنے اور رخ کرنے دونوں سے منع فرمایاہے، جیسے کہ حضرت  ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی  ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:  جب تم بیت الخلا جاؤ تو  قبلہ کی طرف  نہ منہ کرو اور نہ پشت ۔۔۔ الخ‘‘۔ (مشکات المصابیح، بات آداب الخلاء، ج:1، ص:109، ط:المکتب الاسلامی، بیروت)

بصورتِ مسئولہ قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا یا پاخانہ کرنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے،  اس میں کعبۃ اللہ کی بے حرمتی ہے؛ لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(كما كره) تحريمًا (استقبال قبلة واستدبارها ل) أجل (بول أو غائط)...".

(فصل في الاستنجاء، ج:1، ص:341، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200194
تاریخ21-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں