بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک کی اجازت سے درختوں پر رہ جانے والے پھلوں کو کاٹنے کے بعد عشر کا حکم

سوال

ہمارے ہاں وزیرستان میں چلغوزے کا فصل کاٹنے کے بعد کچھ درختوں پر اِکّا دُکّا چلغوزے باقی رہ جاتےہیں، بعد میں کوئی بندہ مالک کی اجازت سے درختوں پر باقی ماندہ چلغوزے اپنے لیے توڑتا ہے، جس سے ایک دو بوری چلغوزے جمع ہوجاتے ہیں، کیا اس صورت میں اس آدمی پر اس کا عشر دینا لازم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  مذکورہ پیداوار کا عشر اس فصل کے مالک پر ادا کرنا ضروری ہے۔  اس کے بعد درختوں پر رہ جانے والے چلغوزے چننے والوں پر الگ سے عشر لازم نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر، كذا في الظهيرية."

(كتاب الزكوة، الباب السادس فى زكاة الزرع والثمار، ج:1، ص:186، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200186
تاریخ21-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں