بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روبوٹ بنانا اور اس کی آمدنی

سوال

روبوٹ بنانے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

روبوٹ میں اگر کسی جان دار کی حکایت ہو، مثلاً چہرہ ہو تو ایسا روبوٹ مجسمہ کے حکم میں ہے اور اسے بنانا ناجائز ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال نہیں۔ اور اگر روبوٹ میں جان دار کی حکایت نہ ہو، تو اس صورت میں روبوٹ بنانا جائز ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

 (حاشية ابن عابدين: كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، 1/647، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200177
تاریخ20-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں