بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو کے ساتھ کاروبار میں شراکت كا حكم

سوال

ہندو کے ساتھ کاروبار میں شراکت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ہندؤوں کے ساتھ کاروباری شراکت جائزہے، لیکن چوں کہ وہ خرید وفروخت کے  شرعی اَحکام نہیں جانتے ہیں، اس لیے ممنوع خرید وفروخت  کرنے کے خطرہ کی وجہ سے  شراکت مکروہ ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويكره للمسلم أن يشارك الذمي؛ لأنه يباشر عقودًا لاتجوز في الإسلام فيحصل كسبه من محظور فيكره، و لهذا كره توكيل المسلم الذمي، و لو شاركه شركة عنان جاز كما لو وكله."

(كتاب الشركة،  فصل وأما بيان شرائط جواز هذه الأنواع (6/ 62)،ط. دار الكتاب العربي: 1982)

البحر الرائق میں ہے:

"وأنه يكره للمسلم أن يشارك الذمي اهـ  يعني شركة عنان ."

(كتاب الشركة (5/ 183)،ط.  دار المعرفة، بيروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200098
تاریخ19-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں