بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حروف تہجی کو دیہاتی طریقے (الف بے تے ثے جیم حے خے) کے مطابق پڑھنے اور پڑھانے کا حکم

سوال

حروف تہجی کو الف بے تے ثے جیم حے خے جیسا کی دیہاتوں میں پڑھایا جاتا ہے،  ایسے پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے ؟

جواب

عربی کے  حروفِ  تہجی کو سوال میں مذکورہ طریقے سے پڑھنا یا پڑھانا درست نہیں ہے،  یعنی عربی قاعدہ یا قرآنِ مجید کی تعلیم دیتے ہوئے حروفِ تہجی کا مذکورہ تلفظ درست نہیں ہے۔ البتہ اردو  کے حروف تہجی کو سوال میں مذکورہ طریقہ سے پڑھنا اور پڑھانا درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200075
تاریخ19-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں